Now Reading
Daro do Salam

Daro do Salam

سرکارﷺ کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت برموقع حاضری مدینہ منورہ بقلم ڈاکٹر جلالی صاحب
عیاں اتنا کیا ہے رب نے رتبہ سبزِگنبد کا پڑھا کعبہ نے بھی دنیا میں خطبہ سبزِگنبد کا
ترستی ہیں نگاہیں رات دن کعبے کے جلووں کو مگر کعبہ دکھا دیتا ہے رستہ سبزِگنبد کا
غم و آلام کے ماروں کو غم سب بھول جاتے ہیں نظر جب سامنے آتا ہے چہرہ سبزِگنبد کا
جلے جس کے مقّدر میں ہے اسکی شان سے جلنا میرے لب پہ تو ہے دن رات نعرہ سبزِگنبد کا
رہائی پاؤ گے تم ہر مرض کی خستہ حالی سے چلو دیکھو سہی اک بار جلوہ سبزِگنبد کا
ِزبانِ صدق سے کہتا ہوں میں نجدی مُطوّعوں کو یہ تم بھی روز شب کھاتے ہو صدقہ سبزِگنبد کا
نہ روکوں عاشقوں کو سبزِگنبد کے نظاروں سے ہو ا شرق و 
غرب پہ سب ہے قبضہ سبزِگنبد کا
نہیں ہم مانتے اک پل بھی یورپ کی غلامی کو رواں اپنی زباں پر بس ہے کلمہ سبزِگنبد کا
جہاں سلطان عالمﷺ آج بھی زندہ حقیقیت ہیں عرش سے پوچھ لو کیسا ہے سبزِگنبد کا
عنادل گا رہی ہوگی جسکی لالہ زاروں میں میری قسمت میں لکھا رب نے نغمہ سبزِگنبد کا
مدینہ سارا ہی برکت نشان ہے اس زمانے میں مگر رشک جناں ہے سارارقبہ سبزِگنبد کا
نہ دیکھے کوئی بھی میلی نگاہ سے اسکی رنگت کو وہاں تو قدسی بھی دیتے ہیں پہرا سبزِگنبد کا
خدایا جان میری جب ہو رخصت جسدِ خاکی سے عیاں آصف پہ ہو اس دم بھی نقشہ ٍسبزِگنبد کا
View Comments (0)

Leave a Reply

© 2018 Labbaik Islam. All Rights Reserved.

Scroll To Top