Breaking News

Poetry Of Dr Muhammad Ashraf Asif Jalali

سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے


آنکھ سے کاجل صَاف چُرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تُو نے نیند نکالی ہے


یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر دم میں نہ آنا مَت کیسی متوالی ہے
بادل گرجے بجلی تڑپے دَھک سے کلیجا ہو جائے


بن میں گھٹا کی بَھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے
شہد دکھائے زہر پلائے، قاتل، ڈائن، شوہر کش
اس مردار پہ کیا للچایا دُنیا دیکھی بھالی ہے


مولیٰ تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے
ورنہ رضاؔ سے چور پہ تیری ڈِگری تو اِقبالی ہے

Comment here